Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم

کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا

اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر

گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا

جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی

دل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا

تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی

جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا

گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں

اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا

وہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نے

میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا

اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش

سو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا

اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی

ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا

تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی

کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا

کی چشم تو نے باز کہ کھولا درستم

کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا

کیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میں

دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا

Leave a Reply