Blog

مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے
گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے
کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو
وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے
نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے
مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے
جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے
فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے
تڑپنا نقش پائے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں
بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے
پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر
پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے
طرف ہونا مرا مشکل ہے میرؔ اس شعر کے فن میں
یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started