poem 7
Classic,  Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے

کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے

سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ

تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے

دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا

ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے

ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے

پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے

عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی

چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے

دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم

کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے

ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختر رز آفت

کیا پیر مغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے

خونریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں

کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے

جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی

جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے

ان مغبچوں میں زاہد پھر سرزدہ مت آنا

مندیل تری اب کے ہم نے تو بچالی ہے

کیا میرؔ تو روتا ہے پامالی دل ہی کو

ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: