Ghazlyat e Mir taqi mir
Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے

بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے

منزل نہ کر جہاں کو کہ ہم نے سفر سے آہ

جن کا کیا سراغ سنا وے گذر گئے

مشت نمک سے بھی تو کبھو یاد کر ہمیں

اب داغ کھاتے کھاتے فلک جی تو بھر گئے

ناصح نہ روویں کیونکے محبت کے جی کو ہم

اے خانماں خراب ہمارے تو گھر گئے

تلوار آپ کھینچیے حاضر ہے یاں بھی سر

بس عاشقی کی ہم نے جو مرنے سے ڈر گئے

کر دیں گے آسمان و زمیں ایک حشر کو

اس معرکے میں یار جی ہم بھی اگر گئے

ق

یہ راہ و رسم دل شدگاں گفتنی نہیں

جانے دے میرؔ صاحب و قبلہ جدھر گئے

روز وداع اس کی گلی تک تھے ہم بھی ساتھ

جب دردمند ہم کو وے معلوم کر گئے

کر یک نگاہ یاس کی ٹپ دے سے رو دیا

پھر ہم ادھر کو آئے میاں وے ادھر گئے

Leave a Reply