شاعری

Ghazlyat e Mir

Spread the love

ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے

چھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے

مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاک

روشنی ہے سو یاں مرے دم سے

تم جو دلخواہ خلق ہو ہم کو

دشمنی ہے تمام عالم سے

درہمی آ گئی مزاجوں میں

آخر ان گیسوان درہم سے

سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہے

بہ گئے اشک دیدۂ نم سے

مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کو

کہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے

ق

اکثر آلات جور اس سے ہوئے

آفتیں آئیں اس کے مقدم سے

دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاں

تیغ نکلی اس ابروئے خم سے

ق

کوئی بیگانہ گر نہیں موجود

منھ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے

وجہ پردے کی پوچھیے بارے

ملیے اس کے کسو جو محرم سے

درپ ئے خون میرؔ ہی نہ رہو

ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے

Leave a Reply

%d bloggers like this: