Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

بزم میں جو ترا ظہور نہیں

شمع روشن کے منھ پہ نور نہیں

کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک

یاد رہتی ترے حضور نہیں

خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں

اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں

قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے

لازم اس کام میں مرور نہیں

ق

فکر مت کر ہمارے جینے کا

تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں

پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش

ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں

عام ہے یار کی تجلی میرؔ

خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: