The Bad Monk
Classic,  Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے

کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے

واں آرسی ہے وہ ہے یاں سنگ ہے چھاتی ہے

گذرے ہے جو کچھ ہم پر سو اس کی بلا جانے

ناصح کو خبر کیا ہے لذت سے غم دل کی

ہے حق بہ طرف اس کے چکھے تو مزہ جانے

میں خط جبیں اپنا یارو کسے دکھلاؤں

قسمت کے لکھے کے تیں یاں کون مٹا جانے

بے طاقتی دل نے ہم کو نہ کیا رسوا

ہے عشق سزا اس کو جو کوئی چھپا جانے

اس مرتبہ ناسازی نبھتی ہے دلا کوئی

کچھ خُلق بھی پیدا کر تا خلق بھلا جانے

لے جایئے میرؔ اس کے دروازے کی مٹی بھی

اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے

Leave a Reply

%d bloggers like this: