Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

دیکھا کروں تجھی کو منظور ہے تو یہ ہے

آنکھیں نہ کھولوں تجھ بن مقدور ہے تو یہ ہے

نزدیک تجھ سے سب ہے کیا قتل کیا جلانا

ہم غمزدوں سے ملنا اک دور ہے تو یہ ہے

رونے میں دن کٹیں ہیں آہ و فغاں سے راتیں

گر شغل ہے تو یہ ہے مذکور ہے تو یہ ہے

چاک جگر کو میرے برجا ہے جو کہو تم

گر زخم ہے تو یہ ہے ناسور ہے تو یہ ہے

اٹھتے ہی صبح کے تیں عاشق کو قتل کرنا

خوباں کی سلطنت میں دستور ہے تو یہ ہے

کہتا ہے کوئی عاشق کوئی کہے ہے خبطی

دنیا سے بھی نرالا رنجور ہے تو یہ ہے

کیا جانوں کیا کسل ہے واقع میں میرؔ کے تیں

دو چار روز سے جو مشہور ہے تو یہ ہے

Leave a Reply