flower
Classic,  Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے

دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے

مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب

مرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے

جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منھ میں ترے نہاں

تری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے

رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا

سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے

کہیں گے کہو تمھیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدا

نہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منھ سے حجاب ہے

چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں

لب ناں تو واں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے

نہیں کھلتیں آنکھیں تمھاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو

یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے

گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب

تجھے کرنا ہو وے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے

کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیا

یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے

تو جہاں کے بحر عمیق میں سرپرہوا نہ بلند کر

کہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے

رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کی

کہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے

مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا

جسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: