Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے

سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے

موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو

کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے

اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر

صنم کدے میں تو ٹک آکے دل لگا بھی ہے

یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب

لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے

ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں

نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے

جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے

جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے

کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے

ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے

ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن

کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے

غم فراق ہے دنبالہ گرد عیش وصال

فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے

قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا

جو کچھ بھی پایئے تجھ کو تو آشنا بھی ہے

جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو

کسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے

گذار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں

کہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے

Leave a Reply