Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

رات گذرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے

آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے

کھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافل

خواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے

داغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سے

ہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے

جی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئے

لعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس

ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

Leave a Reply