The Eyes Of Beauty
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں

آرزوئے جہان ہوتے ہیں

گوش دیوار تک تو جا نالے

اس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں

کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن

گھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں

دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا

روضے سب گلستان ہوتے ہیں

حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض

خوبرو بد زبان ہوتے ہیں

غمزۂ چشم خوش قدان زمیں

فتنۂ آسمان ہوتے ہیں

ق

کیا رہا ہے مشاعرے میں اب

لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں

میرؔ و مرزا رفیع و خواجہ میر

کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: