Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے

پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے

میں نے اس قطعۂ صناع سے سر کھینچا ہے

کہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے

کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے

ہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے

آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار

آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے

دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی

ہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے

کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے

اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے

عمر گذری کہ نہیں دودۂ آدم سے کوئی

جس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے

تو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکور

مل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے

Leave a Reply