Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

قصد گر امتحان ہے پیارے

اب تلک نیم جان ہے پیارے

سجدہ کرنے میں سر کٹیں ہیں جہاں

سو ترا آستان ہے پیارے

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر

یہ ہماری زبان ہے پیارے

کام میں قتل کے مرے تن دے

اب تلک مجھ میں جان ہے پیارے

یاری لڑکوں سے مت کرے ان کا

عشق…ن ہے پیارے

چھوڑ جاتے ہیں دل کو تیرے پاس

یہ ہمارا نشان ہے پیارے

شکلیں کیا کیا کیاں ہیں جن نے خاک

یہ وہی آسمان ہے پیارے

ق

جا چکا دل تو یہ یقینی ہے

کیا اب اس کا بیان ہے پیارے

پر تبسم کے کرنے سے تیرے

کنج لب پر گمان ہے پیارے

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

Leave a Reply