Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

جرس راہ میں جملہ تن شور ہے

مگر قافلے سے کوئی دور ہے

تمنائے دل کے لیے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

نہ ہو کس طرح فکر انجام کار

بھروسا ہے جس پر سو مغرور ہے

پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ

کسو کا مگر خون منظور ہے

دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج

گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے

کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل

وہی بے قراری بدستور ہے

نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو

مگر چشم خونبار ناسور ہے

تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ

نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے

بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔ

بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے

Leave a Reply