Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ

یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے

رہرو راہ خوفناک عشق

چاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے

پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے

وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے

ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب

ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے

بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک

مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے

سمجھے انداز شعر کو میرے

میرؔ کا سا اگر کمال رکھے

Leave a Reply