Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے

ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے

آزردہ خاطروں سے کیا فائدہ سخن کا

تم حرف سر کرو گے ہم گریہ سر کریں گے

عذر گناہ خوباں بدتر گنہ سے ہو گا

کرتے ہوئے تلافی بے لطف تر کریں گے

سر جائے گا ولیکن آنکھیں ادھر ہی ہوں گی

کیا تیری تیغ سے ہم قطع نظر کریں گے

اپنی خبر بھی ہم کو اب دیر پہنچتی ہے

کیا جانے یار اس کو کب تک خبر کریں گے

گر دل کی تاب و طاقت یہ ہے تو ہم نشیں ہم

شام غم جدائی کیونکر سحر کریں گے

یہ ظلم بے نہایت دیکھو تو خوبرویاں

کہتے ہیں جو ستم ہے ہم تجھ ہی پر کریں گے

اپنے بھی جی ہے آخر انصاف کر کہ کب تک

تو یہ ستم کرے گا ہم درگذر کریں گے

صناع طرفہ ہیں ہم عالم میں ریختے کے

جو میرؔ جی لگے گا تو سب ہنر کریں گے

Leave a Reply