Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

عشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچ

اس طرح کے خرج لاحاصل کو دولت چاہیے

عاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیا

آدمی ہووے کسی پیشے میں جرأت چاہیے

ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخن

سامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے

عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگو

قرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے

نازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوس

یاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے

تنگ مت ہو ابتدائے عاشقی میں اس قدر

خیریت ہے میرؔ صاحب دل سلامت چاہیے

Leave a Reply