Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

عشق میں نے خوف و خطر چاہیے

جان کے دینے کو جگر چاہیے

قابل آغوش ستم دیدگاں

اشک سا پاکیزہ گہر چاہیے

حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے

اٹھتے پلک ایک پہر چاہیے

کم ہے شناس اے زر داغ دل

اس کے پرکھنے کو نظر چاہیے

سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں

واقعہ اک شام و سحر چاہیے

عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس

داغ بہ دل دست بسر چاہیے

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے

جیسے جرس پارہ گلو کیا کروں

نالہ و افغاں میں اثر چاہیے

خوف قیامت کا یہی ہے کہ میرؔ

ہم کو جیا بار دگر چاہیے

Leave a Reply

%d bloggers like this: