Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی

دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی

کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر

سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی

گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا

مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی

ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے

آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی

خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا

پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی

کتنا خلاف وعدہ ہوا ہو گا وہ کہ یاں

نومیدی و امید مساوات ہو گئی

آ شیخ گفتگوئے پریشاں پہ تو نہ جا

مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی

ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر

گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی

دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ

اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی

اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو

رنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی

Leave a Reply