Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی

اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی

تھی آبلۂ دل سے ہمیں تشنگی میں چشم

پھوٹا تو نہ آیا نظر اک بوند بھی پانی

مدت سے ہیں اک مشت پر آوارہ چمن میں

نکلی ہے یہ کس کی ہوس بال فشانی

بھاتی ہے مجھے اک طلب بوسہ میں یہ آن

لکنت سے الجھ جا کے اسے بات نہ آنی

ق

کیا جانیے کیا کیا میں لکھوں شوق میں قاصد

پڑھنا نہ کرے خط کا کہیں اس پہ گرانی

تکلیف نہ کر نامہ کے لکھنے کی تو مجھ کو

آ جائے جو کچھ جی میں ترے کہیو زبانی

یہ جان اگر بید مولہ کہیں دیکھے

باقی ہے کسو موئے پریشاں کی نشانی

دیکھیں تو سہی کب تئیں نبھتی ہے یہ صحبت

ہم جی سے ترے دوست ہیں تو دشمن جانی

مجنوں بھی نہ رسوائے جہاں ہوتا نہ وہ آپ

مکتب میں جو کم آتی پہ لیلیٰ تھی دوانی

ق

اک شخص مجھی سا تھا کہ وہ تجھ پہ تھا عاشق

وہ اس کی وفا پیشگی وہ اس کی جوانی

یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میرؔ

سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی

Leave a Reply