Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

آج کل بے قرار ہیں ہم بھی

بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی

آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیں

تحفۂ روزگار ہیں ہم بھی

منع گریہ نہ کر تو اے ناصح

اس میں بے اختیار ہیں ہم بھی

در پئے جان ہے قراول مرگ

کسو کے تو شکار ہیں ہم بھی

نالے کریو سمجھ کے اے بلبل

باغ میں یک کنار ہیں ہم بھی

مدعی کو شراب ہم کو زہر

عاقبت دوست دار ہیں ہم بھی

مضطرب گریہ ناک ہے یہ گل

برق ابر بہار ہیں ہم بھی

گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیک

اپنے تو یادگار ہیں ہم بھی

میرؔ نام اک جواں سنا ہو گا

اسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی

Leave a Reply