Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری

برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا

خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری

ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس

ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری

وہ نقش پائے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں

نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہرواں میری

شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر

کہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری

اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا

گئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری

ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا

گئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری

نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ

کہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری

رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیک

گئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری

ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر

نہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری

دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔ

پڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری

Leave a Reply