Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

تاب دل صرف جدائی ہو چکی

یعنی طاقت آزمائی ہو چکی

چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباں

جیتے جی اپنی رہائی ہو چکی

آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہ

شیخ سے اب پارسائی ہو چکی

درمیاں ایسا نہیں اب آئینہ

میرے اس کے اب صفائی ہو چکی

ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگے

اتنے ہی میں آشنائی ہو چکی

بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا

رحم کر اب بے وفائی ہو چکی

آج پھر تھا بے حمیت میرؔ واں

کل لڑائی سی لڑائی ہو چکی

Leave a Reply