Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

خبر نہ تھی تجھے کیا میرے دل کی طاقت کی

نگاہ چشم ادھر تو نے کی قیامت کی

انھوں میں جو کہ ترے محو سجدہ رہتے ہیں

نہیں ہے قدر ہزاروں برس کی طاعت کی

اٹھائی ننگ سمجھ تم نے بات کے کہتے

وفا و مہر جو تھی رسم ایک مدت کی

رکھیں امید رہائی اسیر کاکل و زلف

مری تو باتیں ہیں زنجیر صرف الفت کی

رہے ہے کوئی خرابات چھوڑ مسجد میں

ہوا منائی اگر شیخ نے کرامت کی

سوال میں نے جو انجام زندگی سے کیا

قد خمیدہ نے سوے زمیں اشارت کی

نہ میری قدر کی اس سنگ دل نے میرؔ کبھو

ہزار حیف کہ پتھر سے میں محبت کی

Leave a Reply