Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی

بلکہ دی جان اور آہ نہ کی

گل و آئینہ ماہ و خور کن نے

چشم اس چہرے پر سیاہ نہ کی

کعبے سو بار وہ گیا تو کیا

جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی

واہ اے عشق اس ستمگر نے

جاں فشانی پہ میری واہ نہ کی

جس سے تھی چشم ہم کو کیا کیا میرؔ

اس طرف ان نے اک نگاہ نہ کی

Leave a Reply