Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

آہ میری زبان پر آئی

یہ بلا آسمان پر آئی

عالم جاں سے تو نہیں آیا

ایک آفت جہان پر آئی

پیری آفت ہے پھر نہ تھا گویا

یہ بلا جس جوان پر آئی

ہم بھی حاضر ہیں کھینچیے شمشیر

طبع گر امتحان پر آئی

تب ٹھکانے لگی ہماری خاک

جب ترے آستان پر آئی

آتش رنگ گل سے کیا کہیے

برق تھی آشیان پر آئی

طاقت دل برنگ نکہت گل

پھیر اپنے مکان پر آئی

ہو جہاں میرؔ اور غم اس کا

جس سے عالم کی جان پر آئی

Leave a Reply