Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

اسی تقریب اس گلی میں رہے

منتیں ہیں شکستہ پائی کی

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

آہ نے آہ نارسائی کی

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میرؔ

کس بھروسے پر آشنائی کی

Leave a Reply