Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

بود آدم نمود شبنم ہے

ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ

شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا

دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ

شور سے اپنے حشر ہے پردہ

یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ

بس ہوا ناز ہو چکا اغماض

ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ

نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی

آن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ

دیکھ بے دم مجھے لگا کہنے

ہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ

میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے

کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ

ہے رے بیگانگی کبھو ان نے

نہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ

تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک

اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ

میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانے

اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ

Leave a Reply