Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو

کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو

اب تو جگر کو ہم نے بلا کا ہدف کیا

انداز اس نگاہ کا پھر تیر کیوں نہ ہو

جاتا تو ہے کہیں کو تو اے کاروان مصر

کنعاں ہی کی طرف کو یہ شب گیر کیوں نہ ہو

حیراں ہیں اس قدر کہ اگر اب کے جایئے

پھر منھ ترا نہ دیکھیے تصویر کیوں نہ ہو

تو نے تو رفتہ رفتہ کیا ہم کو ننگ خلق

وحشت دلا کہاں تئیں زنجیر کیوں نہ ہو

جوں گل کسو شگفتہ طبیعت کا ہے نشاں

غنچہ بھی کوئی خاطر دل گیر کیوں نہ ہو

ہووے ہزار وحشت اسے تو بھی یار ہے

اغیار تیرے ساتھ جو ہوں میرؔ کیوں نہ ہو

Leave a Reply