Classic,  Literature,  ادب,  اُردو,  شاعری

Ghazlyat e Mir

دل صاف ہو تو جلوہ گہ یار کیوں نہ ہو

آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو

عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو

وہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو

مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک

عاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو

رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے

جس کو شعور ہو تو گنہگار کیوں نہ ہو

دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں

در کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو

آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات

انکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو

ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں

ہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو

موئے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلیاں

اب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو

نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل

پھر میرؔ اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو

Leave a Reply