Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا

یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو

اجڑی اس بستی کو پھر تو نے بسایا ہوتا

عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ

زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا

گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی

اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا

جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ

اس روش سے نہ قدم تو نے اٹھایا ہوتا

اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش

عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا

دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں

اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا

دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں

ہاتھ پاؤں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا

کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی

کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا

میرؔ اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا

ہائے نادان بہت تو نے چھپایا ہوتا

Leave a Reply