Ghazlyat e Mir taqi mir
Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو

آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے

آہ تم بھی تو اک نظر دیکھو

یوں عرق جلوہ گر ہے اس منھ پر

جس طرح اوس پھول پر دیکھو

ہر خراش جبیں جراحت ہے

ناخن شوق کا ہنر دیکھو

تھی ہمیں آرزو لب خنداں

سو عوض اس کے چشم تر دیکھو

رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے

ایک شب اور یاں سحر دیکھو

دل ہوا ہے طرف محبت کا

خون کے قطرے کا جگر دیکھو

پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے

یعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔ

دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو

Leave a Reply