Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

عشق کرنے کو جگر چاہیے آسان نہیں

سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں

غارت دیں میں نگہ خصمی ایماں میں ادا

تجھ کو کافر نہ کہے جو وہ مسلمان نہیں

سرسری ملیے بتوں سے جو نہ ہو تاب جفا

عشق کا ذائقہ کچھ داخل ایمان نہیں

ایک بے درد تجھے پاس نہیں عاشق کا

ورنہ عالم میں کسے خاطر مہمان نہیں

کیونکے غم سرزدہ ہر لحظہ نہ آوے دل میں

گھر ہے درویش کا یاں در نہیں دربان نہیں

ہم نشیں آہ نہ تکلیف شکیبائی کر

عشق میں صبر و تحمل ہو یہ امکان نہیں

کس طرح منزل مقصود پہ پہنچیں گے میرؔ

سفر دور ہے اور ہم کنے سامان نہیں

Leave a Reply