Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ

ننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں

خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا

عمر گذری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں

راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط

سو تو بیتابی دل بن مجھے آرام نہیں

بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے

کچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں

Leave a Reply