Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

نہ کیونکے شیخ توکل کو اختیار کریں

زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں

گیا وہ زمزمۂ صبح فصل گل بلبل

دعا نہ پہنچے چمن تک ہم اب ہزار کریں

تمام صید سر تیر جمع ہیں لیکن

نصیب اس کے کہ جس کو ترا شکار کریں

تسلی تو ہو دل بے قرار خوباں سے

یہ کاش ملنے نہ ملنے کا کچھ قرار کریں

ہمیں تو نزع میں شرمندہ آ کے ان نے کیا

رہا ہے ایک رمق جی سو کیا نثار کریں

رہی سہی بھی گئی عمر تیرے پیچھے یار

یہ کہہ کہ آہ ترا کب تک انتظار کریں

کریں ہیں حادثے ہر روز وار آخر تو

سنان آہ دل شب کے ہم بھی پار کریں

یہ قتل غیر ہے کیا کام ہم نشیناں آج

جو دشمنی نہ کرے وہ تو اس کو یار کریں

ہوا ہوں خاک رہ اس واسطے کہ خوباں میرؔ

گذار گور پہ میری بھی ایک بار کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: