Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آ گیا

دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آ گیا

پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر اس کو کیا کریں

جو چشم روزگار میں فرہاد آ گیا

اپنا بھی قصد تھا سردیوار باغ کا

توڑا ہی تھا قفس کو پہ صیاد آ گیا

جور و ستم اٹھانے ہی اس سے بنیں گے شیخ

مسجد میں گر وہ عاشق بیداد آ گیا

دیکھیں گے آدمی کی روش میرؔ ہم تری

گر سامنے سے ٹک وہ پری زاد آ گیا

Leave a Reply