Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو

کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں

وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود

اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں

اس مہ چار دہ کی دوری نے

دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں

نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال

حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں

تنگی اس جا کی نقل کیا کریے

یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں

صرف للہ خم کے خم کرتے

نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں

مغ بچے مال مست ہم درویش

کون کرتا ہے مشت مال ہمیں

کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج

یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں

ترک سبزان شہر کریے اب

بس بہت کر چکے نہال ہمیں

وجہ کیا ہے کہ میرؔ منھ پہ ترے

نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں

Leave a Reply