Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں

اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں

سینہ سپر کیا تھا جن کے لیے بلا کا

وے بات بات میں اب تلوار کھینچتے ہیں

مجلس میں تیری ہم کو کب غیر خوش لگے ہے

ہم بیچ اپنے اس کے دیوار کھینچتے ہیں

بے طاقتی نے ہم کو چاروں طرف سے کھویا

تصدیع گھر میں بیٹھے ناچار کھینچتے ہیں

منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی

حق جو کہے ہے اس کو یاں دار کھینچتے ہیں

شکوہ کروں تو کس سے کیا شیخ کیا برہمن

ناز اس بلائے جاں کے سب یار کھینچتے ہیں

ناوک سے میرؔ اس کے دل بستگی تھی مجھ کو

پیکاں جگر سے میرے دشوار کھینچتے ہیں

Leave a Reply