Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں

ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں

شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم

مفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں

داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن

ضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں

کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ

یہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں

بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوئے شیر

تھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں

کیا کہوں میرؔ فراموش کیا ان نے تجھے

میں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں

Leave a Reply