Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

بارہا گور دل جھنکا لایا

اب کے شرط وفا بجا لایا

قدر رکھتی نہ تھی متاع دل

سارے عالم میں میں دکھا لایا

دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیش

ایک عالم کے سر بلا لایا

سب پہ جس بار نے گرانی کی

اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

ابتدا ہی میں مر گئے سب یار

عشق کی کون انتہا لایا

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Leave a Reply