Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ناکسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا

بس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا

کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب

شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کی

دیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا

گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیم

مدتیں گذریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا

دور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخ

کل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا

Leave a Reply