Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا

گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا

کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر

میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا

میں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھا

پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا

ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا

سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا

ہے اس کے حرف زیر لبی کا سبھوں میں ذکر

کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا

تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ

وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا

کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی

دلدار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا

آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمھارے ساتھ

کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا

کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔ

نا کردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا

Leave a Reply