Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا

چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی

اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا

انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے

مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو

ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا

کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر

تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا

ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے

کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا

Leave a Reply