Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

دل کے جانے کا نہایت غم رہا

حسن تھا تیرا بہت عالم فریب

خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا

دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک

قطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا

سنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہ

اس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا

جامۂ احرام زاہد پر نہ جا

تھا حرم میں لیک نامحرم رہا

زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظر

عمر بھر یاں کام دل برہم رہا

اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہے

اپنے حق میں آب حیواں سم رہا

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی

ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

صبح پیری شام ہونے آئی میرؔ

تو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا

Leave a Reply

%d bloggers like this: