Blog Literature Urdu

ہوس کے نام پہ ہم نے بھی زندگانی کو

ہوس کے نام پہ ہم نے بھی زندگانی کو

لگایا روگ، پرسکون بے زبانی کو

ہوں باخبر یہ، کیا ہے انجامِ محبت پھر بھی

نفس نفس میں ڈھونڈھتا ہوں اک کہانی کو

میں کیا تھا ایسا یا ایسا کبھی میں تھا ہی نہیں

گزشتہ لمحوں میں ڈھونڈونگا میں جوانی کو

عجب تماشا ہے جسموں کے ڈھیر میں ہوں کھڑا

میں جہنم میں ڈھونڈتا ہوں اک نشانی کو

کبھی معلوم نہیں ہوتی آرزو میری

جھلک جھلک میں بدلتی ہے بے کرانی کو

شرر ہوں اتنا سا، پھر بھی یہ اضطراب کیوں

تلاشِ خرمنِ باغی کے باتوانی کو

یہ وقت مجھ سے کیوں اندازِ رقیبی میں ملا

سحر تھلک تو یہ کھڑا تھا میرے ثانی کو

نہ پایا پھر بھی رہا جسموں کے سمندر میں

وجودِ من میں آہ! سرِ جاویدانی کو

عروج کیسے ملے مجھکو کہ میں سمندر میں

ڈبو رہا ہوں اپنے ہاتھوں، زندگانی کو

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply