Blog

ہمارے خواب بکھرے ہیں

تمہیں ملکوں کی پڑی ہے
ہماری جان باقی ہے
نہیں باقی ہے اور کچھ بھی
فقط ایمان باقی ہے
رہے محصور برسوں سے
ہم اپنی جان کی خاطر
تمہارے مان کی خاطر
ذبح ہوتے رہے گلشن
وطن کی خاک کی خاطر
ہم جل کے راکھ ہوتے ہیں
یہی رسمِ جہاں بازی
کہ ہم بس قتل ہوتے ہیں
تمہیں قاتِل نہیں ملتا
شہر میں ڈھونڈنے سے بھی
کوئی عادل نہیں ملتا
کوئی سنگدل، کوئی گھائل

ہم کس سے جا کے گلہ کریں؟

کوئی قابل نہیں ملتا
ہمیں لُٹنے کی عادت ہے
تم جا کے تخت پر بیٹھو
خُدائی کر کے مر جاؤ

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started