Urdu,  ادب,  کامیابی,  مذہب,  نفسیات

بعض اوقات اپنے پاس فقط ایک امید ہی ہوتی ہے

جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا بعض اوقات ہمارے پاس فقط ایک امید ہی ہوتی ہے جو ہمیں نا قابلِ برداشت حالات میں بھی جینے پر مجبور کرتی ہے۔ امید وہ روشنی ہے جو زندگی کے زندان میں روزنِ دیوار سے چھن کے آتی ہے اور تاریک زندگی میں بہار کی نوید لاتی ہے۔ میں نے کئی نوجوانوں کو مایوس ہوتے اور پھر موت کو گلے لگاتے دیکھا ہے اور کتنوں کو موت کی آغوش سے امید کا دامن پکڑ کر اپنی پیروں پہ کھڑے ہوکر زندگی کے ہر پل کو جیتے دیکھا ہے۔

میں امید کا عاشق ہوں۔ اس نے مجھے زندگی کے ہر لمحے کو جینے کے قابل کیا ہے۔ جب کسی کو امید کی انگلی پکڑ کے سنبھلتے دیکھتا ہوں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ جب کسی کو امید کا گلہ گھونٹتے دیکھتا ہوں تو دل سے اک ہوک سی نکلتی ہے۔ بےتحاشا دل چاہتا ہے کہ امید چھوڑنے والے کو بتاؤں کہ اس وقت اس کے پاس فقط ایک امید ہی ہے جو اسے زندہ رکھے ہوئے ہے۔

مگر بھلا ہو پیشہ ورانہ اخلاقیات کا جو ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان آذاد ہے وہ جو بھی فیصلہ کرے اس کی مرضی ہے۔ دل پہ پتھر باندھ کے خاموش تو رہا جا سکتا ہے مگر ضمیر کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اسی تناظر میں اس حوالے سے چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

امید خُدا ہے

ایک شخص نے ایک امامِ وقت سے پوچھا مجھے کیسے پتہ ہو کہ خدا ہے۔ فرمایا: کبھی سمندر میں طوفان میں کشتی میں سفر کیا ہے؟

کہا: ہاں

فرمایا: کبھی ایسا ہوا کہ کشتی طوفان میں پھنس گئی ہو اور ااندیشہ ہو کہ اب ڈوب جائے گی؟

کہا: جی ہاں

فرمایا: اس وقت دل میں ایک امید کو ابھرتے دیکھا کہ شائد تم بچ جاؤ؟

کہا: جی ہاں

فرمایا: وہی آخری امید ہی خُدا ہے

اُمید زندگی ہے

نیلسن منڈیلا اور اس جیسے تمام طویل عرصوں تک قید رہنے والے قیدیوں کی سوانح عمریاں پڑھنے والے یہی کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ اُمید ہی زندگی ہوتی ہے اور ناامیدی موت۔۔۔

مایوسی کفر ہے

مذہبی حوالے کے علاوہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مایوسی امید کا انکار ہے۔ اور مایوس وہی ہوتا ہے جس کے پاس امید کا خُدا نہ ہو۔ اسی لیے ایمان والوں کے لیے مایوسی کفر ہے اور شائد بدترین کفر۔۔۔

امید کا دامن تھامے رکھیں

آگ و خُون کی ہولی میں اک جرنل نے اپنی فوج سے ایک ہی جملہ کہا جس نے اسے ہاری ہوئی بازی جتوادی اور وہ جملہ تھا’’امید کا دامن تھامے رکھیں‘‘ واقعی ایسی فوج کو شکست دینا حماقت ہے جو امید کا دامن تھامے رکھیں۔

جیت امید کی ہوتی ہے

کینسر سے لڑتے ہوئے نوجوان نے ڈاکٹر سے کہا: سر ڈریے مت باآخر جیت امید کی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نے دو انگلیوں سے وی کا نشان بناتے ہوئے کہا: شاباش جوان! تم نے مرتے دم بھی اگر یہ راز جان لیا ہے تو واقعی تمہاری زندگی اور موت دونوں رائیگاں نہیں گئے۔

مایوسی ہار جاتی ہے

ہم میں سے کتنے لوگ یہ جانتے ہیں کہ مایوسی انسان کو جیتے جی ہی مار دیتی ہے اور یہ موت تک سے بھی ہار جاتی ہے۔

پس ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ محبت امید ہے ہم پُراُمید رہ کر ہر مشکل کا سامنا کریں۔ مشکلات پہ صبر اور نعمات پہ شکر ادا کریں۔ کیونکہ امید ہمیں مرنے اور فنا ہونے نہیں دیتی اور یہی ہمیں جینے اور جیتے رہنے کا حوصلہ دینے میں بخل سے کام کی قائل نہیں ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ہمارے پاس فقط ایک امید ہی ہوتی ہے جو ہمیں نا قابلِ برداشت حالات میں بھی جینے پر مجبور کرتی ہے۔

Leave a Reply