kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر

ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر

اے شہر کے باسی یوں شرارت نہ کیا کر

رکھتے ہو کیوں یہ خار تم میری راہ پر

اے پیراہہنِ پیر حفاظت نہ کیا کر

,, بچہ ہے ایک دن تو یہ بوڑھا بھی ہوگا دل،، محسن نقوی

اس ٹوٹے ہوئے دل کی بھی خدمت نہ کیا کر

جھولی میں ڈالدو ہو جتنا پیار بھی دل میں

دل مانگنے والے سے بھی نفرت نہ کیا کر

مرجائے معطر تو بہت دیر سے آنا

پر دھوپ کے کارن کچھ بھی زحمت نہ کیا کر

Leave a Reply