Blog Literature Urdu

ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر

ہم لوگ ہیں مجرم یوں محبت نہ کیا کر

اے شہر کے باسی یوں شرارت نہ کیا کر

رکھتے ہو کیوں یہ خار تم میری راہ پر

اے پیراہہنِ پیر حفاظت نہ کیا کر

,, بچہ ہے ایک دن تو یہ بوڑھا بھی ہوگا دل،، محسن نقوی

اس ٹوٹے ہوئے دل کی بھی خدمت نہ کیا کر

جھولی میں ڈالدو ہو جتنا پیار بھی دل میں

دل مانگنے والے سے بھی نفرت نہ کیا کر

مرجائے معطر تو بہت دیر سے آنا

پر دھوپ کے کارن کچھ بھی زحمت نہ کیا کر

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started